تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ہر انسان کے دل میں ایک خاموش خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اس کی کوشش کو دیکھے، اس کی قدر کرے اور اس کے اچھے عمل کو سراہے۔ یہ صرف بچوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عمر کے انسان کی فطری اور نفسیاتی ضرورت ہے۔ جس طرح جسم کو غذا چاہیے، اسی طرح دل کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعریف کرنے کے بجائے صرف خامیاں تلاش کرنے کی عادت عام ہو چکی ہے۔ اگر بچہ دس کام درست کرے اور ایک غلطی کر دے تو اکثر نظر صرف اسی ایک غلطی پر جاتی ہے۔
ذرا سوچیے...
بیٹی نے پورا گھر صاف کیا، چیزیں ترتیب سے رکھیں، تھکن کے باوجود اپنا فرض ادا کیا۔ لیکن ماں نے صرف اتنا کہا:
"کچن میں ایک کپ رہ گیا ہے۔"
یہ جملہ شاید اصلاح کے لیے کہا گیا ہو، مگر اس سے بچی کو یہ احساس ملتا ہے کہ اس کی ساری محنت کی کوئی قدر نہیں۔
اگر یہی بات اس انداز میں کہی جاتی:
"ماشاء اللہ! آج تم نے بہت محنت کی، گھر واقعی بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ بس کچن میں ایک کپ رہ گیا ہے، وہ بھی رکھ دو۔"
تو اصلاح بھی ہو جاتی اور حوصلہ افزائی بھی۔
رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللّٰهَ»
"جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔"
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کی محنت کو سراہنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ فرماتے ہیں:
«الثَّناءُ بِأَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِحْقَاقِ مَلَقٌ، وَالتَّقْصِيرُ عَنِ الِاسْتِحْقَاقِ عِيٌّ أَوْ حَسَدٌ»
"کسی کی بے جا تعریف چاپلوسی ہے، لیکن جس کی جتنی تعریف کا حق ہو، اس سے کم تعریف کرنا کم ظرفی یا حسد کی علامت ہے۔"
(نہج البلاغہ، حکمت 339)
تربیت کا مطلب صرف غلطیوں کی اصلاح نہیں، بلکہ اچھائیوں کو پروان چڑھانا بھی ہے۔ جب بچے کو اس کی محنت پر سراہا جاتا ہے تو اس کا اعتماد بڑھتا ہے، وہ مزید اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور گھر کا ماحول محبت اور احترام سے بھر جاتا ہے۔
یاد رکھیے!
تنقید غلطی کو روک سکتی ہے، مگر تعریف اچھائی کو بڑھاتی ہے۔
لہٰذا اپنے بچوں، شریکِ حیات، والدین اور گھر کے ہر فرد کی جائز تعریف کیجیے۔ ایک خوبصورت جملہ، ایک مسکراہٹ اور ایک "جزاک اللہ" کبھی کبھی وہ اثر کر جاتی ہے جو لمبی نصیحتیں بھی نہیں کر پاتیں۔
تربیت کا سنہری اصول:
"بچوں کی غلطیوں کی اصلاح ضرور کریں، مگر ان کی محنت اور اچھے کردار کی تعریف کرنا کبھی نہ بھولیں۔ کیونکہ جس دل کو قدر ملتی ہے، وہی دل مزید بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔"









آپ کا تبصرہ